گھنٹیا (Rheumatoid Arthritis) ایک دائمی اور سوزشی بیماری ہے جو جسم کے جوڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس میں جسم کے مدافعتی نظام میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ جسم کے جوڑوں کو ہی دشمن سمجھ کر حملہ کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ جوڑوں میں درد، سوجن، اور سختی کی شکل میں نکلتا ہے، اور یہ آہستہ آہستہ جوڑوں کو مستقل نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
گھنٹیا کی علامات:
- درد: عام طور پر ہاتھوں، کلائی، اور گھٹنوں میں درد ہوتا ہے جو صبح کے وقت یا آرام کے بعد زیادہ ہوتا ہے۔
- سوجن: جوڑوں میں سوجن اور سرخی آ جاتی ہے جو کہ ان میں موجود سوزش کی نشانی ہوتی ہے۔
- جوڑوں کی سختی: خاص طور پر صبح کے وقت جوڑوں میں سختی محسوس ہوتی ہے۔
- تھکن اور کمزوری: جسمانی توانائی کم ہو جاتی ہے اور مریض مسلسل تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں۔
- ہلکی بخار: گھنٹیا کے بعض کیسز میں ہلکی بخار کی بھی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
گھنٹیا کی وجوہات:
- مدافعتی نظام کی خرابی: جسم کا مدافعتی نظام اپنے جوڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جسے آٹو امیون بیماری کہا جاتا ہے۔
- موروثی عوامل: اگر خاندان میں کسی کو یہ بیماری ہو تو دوسرے افراد میں بھی اس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
- ماحولیاتی عوامل: انفیکشن، سگریٹ نوشی، اور کچھ بیکٹیریا بھی گھنٹیا کے عوامل میں شامل ہو سکتے ہیں۔
ہومیوپیتھک علاج:
گھنٹیا کے علاج کے لئے ہومیوپیتھی میں مختلف دوائیں موجود ہیں جو مریض کی علامات، شدت اور حالت کے مطابق دی جاتی ہیں۔ یہاں کچھ بہترین ہومیوپیتھک دوائیں درج کی جا رہی ہیں:
- Rhus Tox: جب جوڑوں میں درد اور سختی ہوتی ہے جو حرکت کرنے سے بہتر محسوس ہو اور سردی یا گیلی ہوا سے بڑھ جائے تو یہ دوا دی جاتی ہے۔
- Bryonia Alba: جب درد شدید ہو اور حرکت سے بڑھ جائے اور آرام سے کم ہو۔ خاص طور پر جب جوڑوں میں سوزش ہو اور مریض کو پانی کی کمی محسوس ہو۔
- Causticum: جب جوڑوں میں دائمی درد ہو اور جوڑ کمزور ہو جائیں، خاص طور پر جب مریض کو سردی سے زیادہ تکلیف ہوتی ہو۔
- Colchicum: یہ دوا اس وقت دی جاتی ہے جب جوڑوں میں اچانک شدید درد اور سوجن ہو، خاص طور پر پیر کے جوڑ میں۔ اس دوا کا اثر زیادہ تر ٹھنڈی اور مرطوب آب و ہوا میں ظاہر ہوتا ہے۔
- Ledum Palustre: جب درد پیروں کے نچلے حصے میں ہو اور اس کے ساتھ ٹھنڈک اور جلن محسوس ہو تو یہ دوا استعمال کی جاتی ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جنہیں سردی میں زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہو۔
- Pulsatilla: جب جوڑوں میں سوزش اور سختی کے ساتھ ہلکی درد ہو، اور مریض کو کھلی ہوا میں بہتر محسوس ہو۔ یہ دوا ان لوگوں کے لئے بھی دی جاتی ہے جو جذباتی اور حساس طبیعت کے حامل ہوں۔
- Sulphur: اگر گھنٹیا کے ساتھ جوڑوں میں گرمی اور جلن ہو، اور خاص طور پر صبح کے وقت زیادہ تکلیف ہو تو یہ دوا مفید ہوتی ہے۔
- Ruta Graveolens: جب جوڑوں کے ساتھ ساتھ پٹھوں میں بھی درد محسوس ہو، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو محنتی کام کرتے ہیں اور جن کے جوڑ اور پٹھے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔
- Actea Spicata: جب ہاتھوں اور کلائی کے جوڑ متاثر ہوں، اور ان میں درد، سوجن اور حساسیت محسوس ہو تو یہ دوا مفید ہے۔
- Kali Carbonicum: جب کمر اور گھٹنوں میں درد ہو اور اس کے ساتھ سختی بھی ہو، خاص طور پر رات میں زیادہ تکلیف محسوس ہو تو یہ دوا دی جاتی ہے۔
گھنٹیا کا ہومیوپیتھک علاج مریض کی علامات اور ان کی شدت کے مطابق کیا جاتا ہے، اس لئے کسی ماہر ہومیوپیتھ سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ مناسب دوا اور خوراک کا تعین ہو سکے۔