پیلا یرقان (Jaundice) ایک حالت ہے جس میں جلد، آنکھوں کی سفید پٹیاں، اور بعض اوقات جسم کے دیگر حصے پیلے رنگ کے نظر آتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب خون میں بلیر روبن (bilirubin) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ بلیر روبن ایک پیلا مادہ ہے جو خون کے سرخ خلیوں کے ٹوٹنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ یرقان کا تعلق عام طور پر جگر، پتہ کی نالیوں یا خون کے سرخ خلیوں کی خرابی سے ہوتا ہے۔
پیلا یرقان کی وجوہات:
- جگر کی بیماری: جگر کے افعال میں خرابی (جیسے ہیپاٹائٹس، جگر کا سرکوسس) کی وجہ سے یرقان ہو سکتا ہے۔
- پتے کی پتھری: پتے کی پتھری یا پتہ کی نالیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے یرقان ہو سکتا ہے۔
- خون کی خرابی: خون کے سرخ خلیوں کی تیزی سے تباہی (ہیمولیسس) کی وجہ سے بھی یرقان ہو سکتا ہے۔
- خاندانی جگر کی بیماری: کچھ جینیاتی بیماریاں، جیسے گلبرٹ سنڈروم (Gilbert’s Syndrome) اور کرگاسٹر (Crigler-Najjar Syndrome)، بھی یرقان کا سبب بن سکتی ہیں۔
- نزلہ یا زکام: شدید نزلہ یا زکام میں جگر کو متاثر کرنے والے وائرس کی وجہ سے بھی یرقان ہو سکتا ہے۔
- الکوحل کا زیادہ استعمال: زیادہ مقدار میں الکوحل کا استعمال جگر کی خرابی اور یرقان کا سبب بن سکتا ہے۔
- ادویات: بعض ادویات (جیسے پاراسٹامول) کا طویل استعمال جگر کی خرابی اور یرقان کی حالت پیدا کر سکتا ہے۔
پیلا یرقان کی علامات:
- پیلی جلد اور پیلی آنکھیں۔
- تھکاوٹ، کمزوری، یا جسمانی بے بسی۔
- پیٹ میں درد، خاص طور پر دائیں طرف۔
- پیشاب کا گہرا رنگ (چائے کے رنگ جیسا)۔
- پاخانہ کا ہلکا رنگ۔
- متلی اور الٹی۔
- بھوک کا کم ہونا۔
- بخار یا سردی لگنا (اگر انفیکشن کی وجہ سے ہو)۔
ہومیوپیتھک علاج:
ہومیوپیتھک دوائیں پیلا یرقان کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ دوا مریض کی مجموعی حالت اور علامات کے مطابق تجویز کی جاتی ہیں۔ ہومیوپیتھی میں، یرقان کے مختلف اقسام اور اس کی وجوہات کے مطابق دوا منتخب کی جاتی ہے۔
1. Chelidonium Majus:
- یہ دوا جگر کی خرابی اور یرقان کی حالت میں بہترین ہے۔ مریض کو جگر کے علاقے میں درد، متلی اور پیٹ کے دائیں طرف تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ یہ دوا خاص طور پر جب یرقان کی حالت میں پیلے رنگ کی جلد اور آنکھوں کی پٹی دکھائی دے، موثر ثابت ہوتی ہے۔
2. Lycopodium Clavatum:
- یہ دوا جگر کی بیماری اور یرقان کی حالت میں مفید ہے، خاص طور پر جب مریض کو پتے کی نالیوں میں رکاوٹ کی وجہ سے پیلا یرقان ہو۔ مریض کو متلی، گیس، اور پیٹ میں احساس کی کمی ہوتی ہے۔
3. Carduus Marianus:
- یہ دوا جگر کے افعال میں خرابی کی حالت میں مفید ہے اور خاص طور پر جب یرقان جگر کی خرابی کی وجہ سے ہو۔ یہ دوا جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہے اور پیلے رنگ کی جلد کو بہتر کرتی ہے۔
4. Phosphorus:
- یہ دوا یرقان اور جگر کے انفیکشن کی حالت میں بہترین ہے، خاص طور پر جب مریض کو پیٹ میں درد، جگر کی سوزش اور خون کے دورے کی علامات ہوں۔
5. Nux Vomica:
- یہ دوا اس وقت مفید ہوتی ہے جب یرقان کی حالت الکوحل یا غذا کی زیادتی کی وجہ سے ہو۔ یہ دوا جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہے اور معدے کے مسائل کو حل کرتی ہے۔
6. Arsenicum Album:
- یہ دوا یرقان کی حالت میں خاص طور پر جب مریض میں شدید کمزوری، متلی اور تیز بخار ہو، مؤثر ہوتی ہے۔ مریض کو پانی پینے کا دل نہیں کرتا اور پیٹ میں مسلسل درد ہوتا ہے۔
7. Chionanthus Virginica:
- یہ دوا جگر کے افعال کو بہتر کرنے میں مدد دیتی ہے اور یرقان کے علاج میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ یہ دوا خاص طور پر جگر کے بڑھنے اور اس کی خرابی کی صورت میں دی جاتی ہے۔
8. Kali Mur:
- یہ دوا یرقان کے ساتھ ساتھ بلغم کی زیادتی اور جگر کی خرابی کی حالت میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا خاص طور پر جب پیٹ میں گیس اور جگر کی سوزش ہو، مفید ہوتی ہے۔
9. Berberis Vulgaris:
- یہ دوا جگر کی خرابی، پتھری اور پتے کی نالیوں میں رکاوٹ کی حالت میں بہترین ہے۔ یہ دوا پیلے یرقان کی حالت میں خون کے دورے اور پیٹ میں درد کو کم کرتی ہے۔
10. Magnesia Phosphorica:
- یہ دوا جگر کی سوزش اور یرقان کی حالت میں استعمال کی جاتی ہے، خاص طور پر جب مریض کو پیٹ میں شدید درد، کرنٹ جیسے درد اور سوزش ہو۔
نتیجہ:
پیلا یرقان جگر کی خرابی یا خون کے سرخ خلیوں کی تباہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہومیوپیتھک دوائیں یرقان کے علاج میں مؤثر ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ دوا مریض کی مجموعی حالت اور علامات کے مطابق تجویز کی جاتی ہیں۔ صحیح دوا کا انتخاب ایک ماہر ہومیوپیتھ کے مشورے سے کرنا ضروری ہے تاکہ بہترین نتائج حاصل کیے جا سکیں۔